ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کیاچیف منسٹر کے انتظار میں کاروار انجینئرنگ کالج کا افتتاح ٹلا ہوا ہے؟

کیاچیف منسٹر کے انتظار میں کاروار انجینئرنگ کالج کا افتتاح ٹلا ہوا ہے؟

Sun, 30 Jul 2017 13:34:08    S.O. News Service

کاروار، 30؍جولائی(ایس او نیوز)ضلع شمالی کینرا کے سرحدی علاقے ماجالی میں نو تعمیر شدہ سرکاری انجینئرنگ کالج کی عمارت کا افتتاح ایک عرصے سے ٹلا ہوا ہے اور اس سے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک طرف مقامی ایم ایل اے ستیش سائل کی برہمی اور دوسری طرف وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں اس کا افتتاح کرنے کا منصوبہ رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

بتایاجاتا ہے کہ موجودہ پولی ٹیکنیک کالج میں جاری انجینئرنگ شعبہ جات کی وجہ سے طلبہ کو بہت ساری دشواریاں تھیں جس کی وجہ سے ایک دوسرے جداگانہ انجینئرنگ کالج کی تعمیر کی گئی۔اور طلبہ کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے فروری میں مختصر سی تقریب کے ساتھ وہاں کلاسس کا آغاز کیا گیا اور ضلع انتظامیہ کی ہدایت کے مطابق بعد میں بڑے پیمانے پر وزیر اعلیٰ کے ہاتھوں افتتاح کرنا طے پایا تھا۔

لیکن پتہ چلا ہے کہ مقامی ایم ایل اے کو یہ بات پسند نہیں آئی کہ پرنسپال نے ان کے علم میں لائے بغیرنئی عمارت میں کلاسس کی شروعات کردی۔ اس پر وہ اتنے برہم ہوئے کہ ضلع انچارج وزیر کی موجودگی میں ڈی سی کے دفتر میں جاری میٹنگ کے دوران پرنسپال شانتلا کو نہ صرف آڑے ہاتھوں لیا بلکہ ان کے ساتھ تضحیک آمیز زبان کا استعمال کیا۔جس سے وزیر دیشپانڈے کے علاوہ افسران کے سر بھی ندامت سے جھک گئے۔مقامی ایم ایل اے کے اعتراض اور برہمی کے پیش نظر نئی عمارت میں طلبہ کی منتقلی روک دی گئی ہے اور اب ضلع انتظامیہ اس انتظار میں ہے کہ کب وزیر اعلیٰ سدارامیا اس طرف آنے کی ہامی بھریں اورکب اس کالج کا افتتاح عمل میں آئے۔دوسری طرف ٹیکنکل ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کمشنر کی طرف سے پرنسپال کو مراسلہ ملا ہے کہ جتنی جلد ہوسکے انجینئرنگ شعبہ جات کو نئی عمارت میں منتقل کیا جائے، مگر ایم ایل اے کی برہمی دیکھتے ہوئے کالج کی پرنسپال محترمہ شانتلا کوئی اقدام کرنے سے گریز کررہی ہیں۔اور وزیر اعلیٰ کے سفر کی تاریخ بھی طے نہیں ہورہی ہے۔ اس طرح نئی عمارت کا افتتاح اور منتقلی کا مرحلہ ٹلتا جارہا ہے جس سے نقصان طلبہ کا ہی ہورہا ہے۔


Share: